نئی دہلی، 27؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لوک سبھا نے آج لوک پال اور لوک آیکت ایکٹ 2013کی دفعہ44میں ترمیم کو منظوری دے دی جس میں مرکزی سرکاری ملازمین، این جی او کو اپنی جائیداد اور دین داری کا اعلان31؍جولائی تک کرنے کی میعاد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔اس سے50لاکھ مرکزی سرکاری ملازمین کو راحت ملے گی ۔لوک سبھامیں آج پرسنل، عوامی شکایت اور پنشن کے وزیرمملکت جتیندر سنگھ نے اس ترمیم کو پیش کیا۔اس کو غوروخوض کے لیے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کو بھیجا گیا ہے۔سنگھ نے کہا کہ چونکہ ہم اس بل کو مستقل کمیٹی کو بھیج رہے ہیں ،اس لیے اس بارے میں تفصیل سے وہاں بحث ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے سیشن میں رپورٹ آ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس میں دفعہ 44میں ترمیم کرنے کی ضرورت اس لیے تھی کیونکہ جائیداد اور دین داری کا اعلان 31؍جولائی تک کرنا ہے ، لیکن ابھی کئی طرح کے مسائل رہ گئے تھے جن پر یہ نتیجہ آنا ہے اور مستقل کمیٹی ان نکات پر غور کرے گی، اس لیے اس وقت تک عوامی خدمتگار ، این جی او کو جائیداد اوردین داری کا اعلان کرنے سے چھوٹ دی جائے۔کانگریس کے ملکاارجن کھڑ گے، سی پی ایم کے محمد سلیم، ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے حکومت سے واضح کرنے کو کہا کہ وہ بتائے کہ اس کی دفعات کو کسی طرح سے ہلکا نہیں کیا جائے گا۔اس پر جتیندر سنگھ نے کہاکہ یقینی طور پر نہ تو حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی ایسی کوئی منشا ہے کہ لوک پال قانون کو کسی بھی طرح سے کمزور کیا جائے، بلکہ ہم تو اس سے بھی سخت بنانا چاہتے ہیں۔ہم بدعنوانی کے خلاف ہر طرح کے اقدامات اور پہل کے حق میں ہیں۔